آپ کی ویب سائٹ
WhatsApp पर संपर्क करें
تلاش

پختونخوا کے جنگلات اجاڑنے کے بعد لکڑی و لینڈ مافیا نے مکنیال جنگل کا رخ کرلیا

admin بتاریخ 2025-08-21 09:28:28
47 مشاہدات
پختونخوا کے جنگلات اجاڑنے کے بعد لکڑی و لینڈ مافیا نے مکنیال جنگل کا رخ کرلیا

پشاور: صوبے کے جنگلات اجاڑنے کے بعد لکڑی اور لینڈ مافیا نے اب ہری پور کے مکنیال جنگل کا رخ کر لیا ہے، جو اسلام آباد کے قریب واقع اور مارگلہ ہلز کے ماحولیاتی نظام کا حصہ ہے۔

اس علاقے کو بڑے پیمانے پر تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھولنے کے لیے بااثر افراد سرگرم ہوگئے ہیں جہاں درختوں کی اندھا دھند کٹائی، کان کنی اور تجارتی چرائی جیسے عوامل خطے کی قیمتی سبز پٹی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ پہلے ہی مکنیال سے متصل مارگلہ ہلز میں تجارتی سرگرمیوں پر پابندی لگا چکی ہے لیکن اس کے باوجود مافیا اب مکنیال جنگل میں ہوٹلوں، سابق بیوروکریٹ شکیل درانی کے مطابق  بطور جی ڈی اے بورڈ ممبر انہں نے مخالفت کی تھی کہ کمرشل سرگرمیاں ہری پور اور اسلام آباد کے ماحولیاتی نظام کو تباہ کردیں گی، اسی تناظر میں محکمہ جنگلات و وائلڈ لائف خیبرپختونخوانے کے پی حکومت کو تجویز دی ہے کہ ہری پور کے خانپور اورمکنیال جنگل سب ڈویژنز کی ہزاروں ایکڑ درختوں اور گھاس سے ڈھکی زمین کو محفوظ گزرا جنگلات قرار دیا جائے۔

یہ سفارشات ایک جامع سروئےکے بعد سامنے آئی ہیں، جس میں محکمہ جنگلات کی مرکزی اور ذیلی کمیٹیوں نے 78 دیہات (66  ہری پور اور  12 ایبٹ آباد میں) کے  7060خسروں کی نشاندہی کی ہے، جن میں درخت اورجنگل موجود ہے۔

اس منصوبے کے تحت 1602ایکڑ محفوظ بنجر زمینیں، جو موجودہ ورکنگ پلانز سے باہر ہیں، اور 336 ایکڑ اراضی، جو پہلے سے گزرا جنگلات میں شامل ہے، جی آئی ایس میپنگ اور زمینی تصدیق کے ذریعے متعین کی گئی ہیں۔ بڑے مقامات میں خانپور سب ڈویژن،  مکنیال سب ڈویژن اور مارگلہ ہلز کی ڈھلوانیں شامل ہیں۔

سابق بیوروکریٹ شکیل درانی نے جنگ کوبتایاکہ انھوں نے جی ڈی اے بورڈ کے ممبر کے طورپر مکنیال میں ہوٹل ٗہاؤسنگ سوسائٹیز اورپلے لینڈ بنانے کی شدید مخالفت کی تھی جس کے بعد مکنیال فارسٹ کو خان پور تحصیل میونسپل کمیٹی کے حوالے کرنے کی کوشش کی گئی۔ 

انھوں نے کہا کہ اسلام آباد کی جانب سےکمرشل تجاوزات ختم ہو چکی ہیں جن میں ہوٹل وغیر ہ بھی شامل ہیں لیکن کے پی کی سائیڈ سے فارم ہاؤسز کی تعمیرات جاری ہہاؤسنگ سوسائٹیوں اور کمرشل عمارتوں کی تعمیر کے منصوبوں پر سرگرم ہے۔

تبصرے

تبصرہ کریں